کتنے عام سے ہیں نہ ہم
دیکھ تجھکو یاد بھی نہیں آتے

<


نہیں ہے رابطہ لیکن میں صدقہ دیتی ہوں
مجھے پتا ہے وہ اکثر سفر میں رہتا ہے۔

وہ بھی اب ہم سے تھک گیا ہوگا
ہم بھی اب اس سے تھک گئے ہوں گے

شب جو ہم سے ہوا معاف کرو
نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے

شکر ہے اس نگاہ کم کا میاں
پہلے ہی ہم کھٹک گئے ہوں گے

ہم تو اپنی تلاش میں اکثر
از سما تا سمک گئے ہوں گے

جونؔ اللہ اور یہ عالم
بیچ میں ہم اٹک گئے ہوں گے

اب عمر کی نقدی ختم ہوئی اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے ہے کوئی جو ساھو کار بنے؟ ہے کوئی جو دیون ہار بنے؟

یوں تیرا ہونا بھی اور تنہا کرتا ہے۔۔۔۔

 

 

;