بچھڑ کر اُس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گا
وہ تھک جائے گا اور میرے گلے سے آ لگے گا

میں مشکل میں تمہارے کام آؤں یا نہ آؤں،
مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا

میں جس کوشش سے اس کو بھول جانے میں لگا ہوں،
زیادہ بھی اگر لگ جائے گا تو ہفتہ لگے گا

میرا دشمن سنا ہے کل سے بھوکا لڑ رہا ہے،
یہ پہلا تیر اُس کو ناشتے میں جا لگے گ

<

میں بتاؤں میرے دل کی خوشی کیا ہے
ایک ہی تصویر میں ہنستے ہوئے ہم دونوں

بہت سے الفاظ ہیں مجھ میں خوبصورت لیکن
کتابوں کی طرح میں اکثر خاموش رہتا ہوں

عجب واویلا تھا ،عید ہو گی، پھر انکی دید ہو گی
عید رخصت،نصیب ناقص، انتظار ضائع، امید قائم۔۔!!

تمہارا ہی حق ہے مجھ پر، تمہارا ہی رہے گا

محبت عید نہیں، جو ہر کسی کے گلے لگے

 

 

;