تو شہر میں ہے مرے گاؤں میں اگر ہوتا۔۔۔۔
یہاں کے لوگ تری بے رخی سے مرجاتے

<

جب تو ہی مقابل ہے میرے پھر فتح کیا
سب جیتیں تجھ پہ وار گئےہم ہار گئے

ایک ناٹک ہے زندگی جس میں
آہ کی جائے، واہ کی جائے..!!

جنگ پر نکلتا ہوں ڈھال بھول جاتا ہوں
میں عجب شکاری ہوں جال بھول جاتا ہوں

وصل میں بھی رہتی ہے بھولنے کی بیماری
ہونٹ چوم آتا ہوں گال بھول جاتا ہوں

آؤ تو سہی، اِک تصویر کھینچتے ہیں
ایک تُم کھینچو، ایک ہم کھینچتے ہیں

 

 

;