وہ جانتا ہی نہیں مان کسے کہتے ہیں
اسے آتا ہی نہیں کسی کا غرور بننا Frowning face

<

حکم ماانا جاتا ہے
سمجھا نہیں جاتا

آستین میں پل رہے تھے لیکن ایک دن یہ ہوا
سانپ آپس کی پریشانی سے باہر آ گئے۔۔۔۔

خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن
رہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا

گلے لگا، اے موسموں کے دیوتا۔۔۔۔۔۔
بدل مجھے، بدل نہیں رہا ہوں میں

 

 

;