مجھے آواز دو کہ مجھے یقین ہو
ابھی دنیا میں محبت باقی ہے
مجھے دکھائی دو کہ مجھے لگے ابھی دنیا باقی ہے...

<

میں اس کی وہ بھول ہوں

جو اس کو ساری عمر نہیں بھولے گی

تو شہر میں ہے مرے گاؤں میں اگر ہوتا۔۔۔۔
یہاں کے لوگ تری بے رخی سے مرجاتے

جب تو ہی مقابل ہے میرے پھر فتح کیا
سب جیتیں تجھ پہ وار گئےہم ہار گئے

ایک ناٹک ہے زندگی جس میں
آہ کی جائے، واہ کی جائے..!!

 

 

;