بال کٹواتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کتنا طلم ہے جن کے ہیں وہ کٹوانے جائیں بھی تو پیسے دیں اور جن کے نہیں ہیں وہ لگوانے جائیں تو بھی پیسے دیں

عجیب دور ہے ظلم تو دیکھتا ہے
مگر کوئی ظالم نظر نہیں آتا

ٹیچرنےایک پرندےکی ٹانگ دکھائی اور پوچھابتاؤ یہ کس پرندےکی ٹانگ ھے
ہیرا:نہی پتا

پیاس کہتی ہے کہ اب ریت نچوڑی جائے
اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا

جس کے چاروں طرف سمندر ہو
اُس جزیرے کو پیاس کہتے ہیں

انڑنیٹ کی سپیڈ کے دعوے چاہے کوئی بھی کمپنی کرلے پر ماں کے ہاتھوں پھینک کر ماری ہوئی چپل کی سپیڈ کی برابری کوئی نہیں کرسکتا ذاتی تجربے کی بنیا د پر دعوی کررہا ہوں لو یو ما ں جی

دل چاہتاہےکچھ ایسالکھوں لفظوںکی آہیں نکلیں
قلم سےلہو ٹپکے کاغذ پردردبکھرے
میری خاموشی ٹوٹے پھراس اذیت سے جان چھوٹے