شام آ رہی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر!!

سو بار اگر توبہ , ٹوٹی بھی تو حیرت کیا
بخشش کی روایت میں , توبہ تو بہانہ ہے.

جب محبت کا یوسف ہجر کے کنوئیں میں گِرتا ہے تو اسکے چاہنے
والے کی آنکھیں یعقوب ہو جایا کرتی ہیں

ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ
ﻟﻮﮒ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻤﺎﻝ بولتا ﮨﻮﮞ

When I count
my blessings....
I count you
twice......!!!

اَبر کے چاروں طرف باڑ لگا دی جائے
مفت بارِش میں نہانے پہ سزا دی جائے
قہقہہ جو بھی لگائے اُسے بِل بھیجیں گے
پیار سے دیکھنے پہ پرچی تھما دی جائے
آئینہ دیکھنے پہ دُگنا کرایہ ہو گا
بات یہ پہلے ، مسافر کو بتا دی جائے
تتلیوں کا جو تعاقب کرے ، چالان بھرے
زُلف میں پھول سجانے پہ سزا دی جائے
رُوح گر ہے تو اُسے بیچا ، خریدا جائے
وَرنہ گودام سے یہ جنس ہٹا دی جائے
کون اِنسان ہے کھاتوں سے یہ معلوم کرو
بے لگانوں کی تو بستی ہی جلا دی جائے

دیار مصر میں دیکھا ہم نے دولت کو
ستم ظریف پیغبر خرید لیتی ہے