اپنی گردن جھکا کے بات کرو
تم نکالے گئے ہو جنت سے

پھر مَیں اک روز بڑی گہری اُداسی سے ملا
بستیوں کے سبھی آباد مکانوں سے پرے

ہر اِک فقیر کی گالی دعا نہيں ہوتی
کسی کو شک ہو تو اُس کو مِرا پتا دینا

خوب رونق تھی ان آنکھوں میں، پھر اک خواب آیا
ایسے، جیسے کسی بستی میں وبا آتی ہے

وقت جب آنکھیں پھیر لیتا ہے
شیر کو کُتّا گھیر لیتاہے

زندگی کے محاذ پرغائر
آدمی عمر بھر اکیلا ہے

تُو اب تو دشمنی کے بھی قابل نہیں رہا
اٹھتی تھی جو کبھی وہ عداوت تمام شُد