ہم سے پہلے بھی محبت کا یہی انجام تھا
قیس بھی ناشاد تھا فرہاد بھی ناکام تھا

میں اس کے پاس کبھی دیر سے گیا ہی نہیں
اسے خبر ہی نہیں -- کیا ہے انتظار کا دکھ

اس نے چوما تھا مرے چہرے کے دائیں جانب
تب سے لگتا ہے کہ بائیں سے یہ گال اچھا ہے

اب ڈر لگتا ہے ان لوگوں سے....
جو کہتے ہیں میرا----یقین کرو.

میں ایک شام جو روشن دِیا اُٹھا لایا

تمام شہر کہیں سے ہوا اٹھا لایا

یہ لوگ دَنگ تھے پہلی کہانیاں سن کر

میں ایک اور نیا واقعہ اٹھا لایا

بات بڑی نہیں ہوتی بس ضد بڑی ہو جاتی ہے۔

پاگلوں کی محفل میں..
سیانے حیران بیٹھے ہیں