ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ
ﻟﻮﮒ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻤﺎﻝ بولتا ﮨﻮﮞ

When I count
my blessings....
I count you
twice......!!!

اَبر کے چاروں طرف باڑ لگا دی جائے
مفت بارِش میں نہانے پہ سزا دی جائے
قہقہہ جو بھی لگائے اُسے بِل بھیجیں گے
پیار سے دیکھنے پہ پرچی تھما دی جائے
آئینہ دیکھنے پہ دُگنا کرایہ ہو گا
بات یہ پہلے ، مسافر کو بتا دی جائے
تتلیوں کا جو تعاقب کرے ، چالان بھرے
زُلف میں پھول سجانے پہ سزا دی جائے
رُوح گر ہے تو اُسے بیچا ، خریدا جائے
وَرنہ گودام سے یہ جنس ہٹا دی جائے
کون اِنسان ہے کھاتوں سے یہ معلوم کرو
بے لگانوں کی تو بستی ہی جلا دی جائے

دیار مصر میں دیکھا ہم نے دولت کو
ستم ظریف پیغبر خرید لیتی ہے

بال کٹواتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کتنا طلم ہے جن کے ہیں وہ کٹوانے جائیں بھی تو پیسے دیں اور جن کے نہیں ہیں وہ لگوانے جائیں تو بھی پیسے دیں

عجیب دور ہے ظلم تو دیکھتا ہے
مگر کوئی ظالم نظر نہیں آتا

ٹیچرنےایک پرندےکی ٹانگ دکھائی اور پوچھابتاؤ یہ کس پرندےکی ٹانگ ھے
ہیرا:نہی پتا