وقت اب ٹھیک چل رہا ہے مرا
آپ یہ قیمتی گھڑی دیکھیں

تیری ہر بات محبت میں گوارا کرکے
دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارا کرکے

خریدتے رہے ہم سادہ پانی گر یونہی

وہ دن بھی آئے گا ہم سب ہوا خریدیں گے

صُور کو تکتا ہے حسرت سے فرشتہ کوئی

لوگ جب روٹی چراتے ہُوئے مر جاتے ہیں

لوگ خوشبو کے تعاقب میں نکل پڑتے ہیں

پھول پر دیکھتے ہی گولی چلا دی جائے

ایک ترتیب سے سنوار ہمیں
تو صحیفوں میں پھر اتار ہمیں
بھیگے بھیگے یہ گوشہ ہائے چشم
دلفگاری میں سازگار ہمیں
ہفتِ اقلیم ہار کر اپنی
جیت بیٹھا ہے شہریار ہمیں
اپنی بانہوں میں بھر کے جھوما ہے
تیرے احساس کا خمار ہمیں
خود شناسی کی راہ میں بانو
آ گیا خود پہ اعتبار ہمیں

جتنی رُسوائی مِلی، آپ کی نسبت سے مِلی
آپ اِس بات سے اِنکار نہیں کر سکتے