لوہے پہ لگا زنگ بھی اک درس فنا ہے
پانی ہے بہت نرم مگر جیت رہا ہے

جی چاہتا ہے میں تجھے چھو کر بھی دیکھ لوں
میں نے تیرے جمال کو کھانا تو ہے نہیں

یونہی دشمن نہیں در آیا میرے آنگن میں
دھوپ کو راہ ملی پیڑ کی عریانی سے


متاں خواب ایچ رضوان توں آویویں۔۔

تیڈے گھر دو منہ کر سمداں ہاں۔۔۔۔


جس شخص کی_____- غلطی۔غلطی نہ لگے

کتاب۔عشق کی تفسیر میں اسے محبوب کہتے ہیں....

مرکز پہ اپنے دھوپ سمٹتی ہے جس طرح
یوں رفتہ رفتہ تیرے قریب آ رہا ہوں میں

زلیخا کا دوپٹہ ہے سلامت
مگریوسف کاکُرتاپھٹ گیا ہے