اس بار وہ تلخی ھے ، کہ روُٹھے بھی نہیں ھم
اب کے وہ لڑائی ھے ،کہ جھگڑا نہ کریں گے

میں صرف محبت کا طلب گار تھا لیکن
اِس میں تو بہت کام اضافی نکل آئے

جو انسان حال پر مطمین نہیں ، وہ مستقبل پر بھی مطمین نہ ہوگا ۔
اطمنان ، حالات کا نام نہیں یہ روح کی ایک حالت کا نام ہے
مطمین آدمی نہ شکایت کرتا ہے نہ تقاضا ۔

اک دوسرے کو دیکھتے چہروں کی خیر ہو
بننے لگے جو ٹوٹ کے رشتوں کی خیر ہو
عجلت میں اپنا قیمتی سامان چھوڑ کر
گاڑی کے پیچھے بھاگنے والوں کی خیر ہو
اپنی جگہ پہ ٹھیک ہے جسموں کی تشنگی
اک ڈر سے کانپتے ہوئے ہونٹوں کی خیر ہو

ہم سے پہلے بھی محبت کا یہی انجام تھا
قیس بھی ناشاد تھا فرہاد بھی ناکام تھا

میں اس کے پاس کبھی دیر سے گیا ہی نہیں
اسے خبر ہی نہیں -- کیا ہے انتظار کا دکھ

اس نے چوما تھا مرے چہرے کے دائیں جانب
تب سے لگتا ہے کہ بائیں سے یہ گال اچھا ہے