میرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دے دے
کے گلاب کانٹوں میں اچھا لگتا ہے

عشق اگر سچا ہو تو
وجود مزار بن جاتے ہیں

کس لیے دیکھتے ہو آئینہ!
تم خود سے بھی خوبصورت ہو

اس نے مجھ میں کمیاں ڈھونڈیں، میں نے اس کے عیب گنے
دونوں نے مل جل کر رستا اپنا اپنا صاف کیا

اکیلے پن کا عذاب کتنا برا ہے تجھ کو خبر نہیں ہے
خدا صحیفے اتارتا ہے کسی بہانے سے بولتا ہے

پر نکلتے گئے پرندوں کے
اور پھر ہوگیا شجر خالی

میں نہتّا تھا اورخدا اُس دن
خوش ہوا تھا مری مدد کرکے