سر بھی نا دکھے __اس کا
دل جس نے _دکھایا ھے

سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی
بندہ ----- جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں

ﺳﺠﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺸﺮ ﻓﺮﺩﻭﺱ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﺘﻨﺎ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺵ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ

انکی عادت بگاڑ دی ہم نے
باتوں باتوں میں روٹه جاتے ہیں

اعتبار سوچ کر ۔۔۔ کرنا دوست
ممکن نہیں ہر جگہ ہم ہی ملیں

کانوں میں انگلیاں ابھی ڈآلیں تو یہ کُھلا،،
باھر کا یہ نہیں ، میرے اندر کا شور ھے،،

ہو سکے تو سن جاؤ ایک دن اکیلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں