ڈھونڈنے پر وہی لوگ ملتے ہیں جو کھو گئے ہوں وہ نہیں مل سکتے جو بدل گئے ہوں۔۔۔۔۔

زرد کلائی کالا دھاگا
درد کی جلتی دوپہروں میں
جیون ہار کے چلتے چلتے
کالی رات سی کالی ہو گئی
دیکھ
میں ہجراں والی ہو گئی

Is bt sy mre taluq ka andaza lga l0, jisy tm salam krty ho wo mje salam krty hn

اَبر کے چاروں طرف باڑ لگا دی جائے
مفت بارِش میں نہانے پہ سزا دی جائے
قہقہہ جو بھی لگائے اُسے بِل بھیجیں گے
پیار سے دیکھنے پہ پرچی تھما دی جائے
آئینہ دیکھنے پہ دُگنا کرایہ ہو گا
بات یہ پہلے ، مسافر کو بتا دی جائے
تتلیوں کا جو تعاقب کرے ، چالان بھرے
زُلف میں پھول سجانے پہ سزا دی جائے
رُوح گر ہے تو اُسے بیچا ، خریدا جائے
وَرنہ گودام سے یہ جنس ہٹا دی جائے
کون اِنسان ہے کھاتوں سے یہ معلوم کرو
بے لگانوں کی تو بستی ہی جلا دی جائے

دیار مصر میں دیکھا ہم نے دولت کو
ستم ظریف پیغبر خرید لیتی ہے

بال کٹواتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کتنا طلم ہے جن کے ہیں وہ کٹوانے جائیں بھی تو پیسے دیں اور جن کے نہیں ہیں وہ لگوانے جائیں تو بھی پیسے دیں

عجیب دور ہے ظلم تو دیکھتا ہے
مگر کوئی ظالم نظر نہیں آتا