ہمارے دیس کی حالت نہ پوچھو
وہ ماں، جس کا کوئی بیٹا نہیں ہے

اس نےپوچھا کہ مجھے یاد کیا ؟
میں نے تب ہنس کے کہا، دیر تلک

پلکیں بھیگی بھیگی سی
پتھر بھی کیا روتے ہیں؟

میں نے سمجھا تھا سمندر تُم ہو
تھا کا مطلب تمھیں آتا ہو گا؟​

جا، تیری پلکوں پہ برسات کا موسم ٹھہرے
بادلوں نے میری آنکھوں کو دُعا دی ہو گی

میری نیندیں اجاڑنے والے ...

اب ترے خواب کون دیکھے گا؟

زندگی بددعائیں دیتی ہے
ہم نے وہ شوق پال رکھے ہیں