تفصیل سے کیسے سنائیں یہ قصہّ محبت کا

کہ تم مصرُوف ھو اب تک ہمیں برباد کرنے میں

وقت ہے جھونکا ہوا کا اور ہم پیلے پتے
کون جانے اگلے لمحے تم کہاں اور ہم کہاں

ہمارے دیس کی حالت نہ پوچھو
وہ ماں، جس کا کوئی بیٹا نہیں ہے

اس نےپوچھا کہ مجھے یاد کیا ؟
میں نے تب ہنس کے کہا، دیر تلک

پلکیں بھیگی بھیگی سی
پتھر بھی کیا روتے ہیں؟

میں نے سمجھا تھا سمندر تُم ہو
تھا کا مطلب تمھیں آتا ہو گا؟​

جا، تیری پلکوں پہ برسات کا موسم ٹھہرے
بادلوں نے میری آنکھوں کو دُعا دی ہو گی