یونہی دشمن نہیں در آیا میرے آنگن میں
دھوپ کو راہ ملی پیڑ کی عریانی سے


متاں خواب ایچ رضوان توں آویویں۔۔

تیڈے گھر دو منہ کر سمداں ہاں۔۔۔۔


جس شخص کی_____- غلطی۔غلطی نہ لگے

کتاب۔عشق کی تفسیر میں اسے محبوب کہتے ہیں....

مرکز پہ اپنے دھوپ سمٹتی ہے جس طرح
یوں رفتہ رفتہ تیرے قریب آ رہا ہوں میں

زلیخا کا دوپٹہ ہے سلامت
مگریوسف کاکُرتاپھٹ گیا ہے

عشق انّاالحق بول رہا ہے
شیخ کتابیں کھول رہا ہے

پہچانتا تو ہوں تجھے تو کون ہے، مگر

پردے سے بھی نکل ذرا میرے قریب آ