پیاس کہتی ہے کہ اب ریت نچوڑی جائے
اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا

جس کے چاروں طرف سمندر ہو
اُس جزیرے کو پیاس کہتے ہیں

dill pareshan ha tere bagair...
ye kaisa imtehan ha tere bagair...
loat ao phir sy tum loat ao...
sub kuch weran ha tere bagair...
sans chalti ha magr ruk ruk ker...
jism bejan ha tere bagair...
ao k afsana.e.ghum phir sy likhen hum...
k adhori dastan ha tere bagair...

تیراوجود رواجوں کے اعتکاف میں ہے
میرا یقین تیرے ع'ش'ق میں ہے....

اس نے جب پلکوں کو جنبش دی عدم
رایگاں سب گفتگو کے فن گۂے

لوگ بھولتے بھی ہیں تو یاد کرواتے رہتے ہیں ، کہ کہیں بھول نہ جائیں

ذرا اب سوچ کہ کہنا جو بھی تم نے کہنا ہے
آواز خواہ ہوا کی ہو
خاموشی ٹوٹ جاتی ہے