جو ہم کلام ہو ہم سے اسی کے ہوتے ہیں
ہم ایک وقت میں ایک آدمی کے ہوتے ہیں

جمالیات کے پرچے میں آٹھ نو نمبر
فقط شگفتگی و دلکشی کے ہوتے ہیں

ﺗﻮ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻧﯿﻨﺪ ﺟﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ۔
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮧ ﺟﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﭨﻮﭨﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ

کتنے عام سے ہیں نہ ہم
دیکھ تجھے یاد بھی نہی آتے..!!

گرم مزاج اور سرد لهجه ...
کمال کا تضاد رکھتے ھو تم ...

اِس بار ترے شہر سے ہجرت نہیں کرنی
اِس بار تجھے چھوڑ کے جانے کے نہیں ہم

جو دے رہے ہیں تجھے دوسروں کے راز ابھی
ترے بھی بھید کسی روز کھول سکتے ہیں

دل میں اتری نہ کوئی ذات
تیری ذات کے بعد..