زلیخا کا دوپٹہ ہے سلامت
مگریوسف کاکُرتاپھٹ گیا ہے

عشق انّاالحق بول رہا ہے
شیخ کتابیں کھول رہا ہے

پہچانتا تو ہوں تجھے تو کون ہے، مگر

پردے سے بھی نکل ذرا میرے قریب آ

فقیہہ شہر کی اجلی قبا بھی میری میلی شرابیں چھانتی ہے

پھول کی گود میں سوتی ہے
شبنم پھر بھی روتی ہے

مجھکو ڈھونڈتے ڈھونڈتے رحمت

بالآخر میخانے آئی

بتوں نے اتنا شعور بخشا
خدا کا ادراک ہو گیا ہے