خریدتے رہے ہم سادہ پانی گر یونہی

وہ دن بھی آئے گا ہم سب ہوا خریدیں گے

صُور کو تکتا ہے حسرت سے فرشتہ کوئی

لوگ جب روٹی چراتے ہُوئے مر جاتے ہیں

لوگ خوشبو کے تعاقب میں نکل پڑتے ہیں

پھول پر دیکھتے ہی گولی چلا دی جائے

ایک ترتیب سے سنوار ہمیں
تو صحیفوں میں پھر اتار ہمیں
بھیگے بھیگے یہ گوشہ ہائے چشم
دلفگاری میں سازگار ہمیں
ہفتِ اقلیم ہار کر اپنی
جیت بیٹھا ہے شہریار ہمیں
اپنی بانہوں میں بھر کے جھوما ہے
تیرے احساس کا خمار ہمیں
خود شناسی کی راہ میں بانو
آ گیا خود پہ اعتبار ہمیں

بے گناہی جو شرط ٹھہری ہے
ہم کو چُن لیجیے سزا کے لئے

پارسائی ہے بزدلی کا نام
حوصلہ چاہئیے خطا کے لئے

Phir Dukh Sehny k liye Tayaar ho Ja...

Ay Dil

Kuch Log Pyaar Sy Paish aa rhy Hain.

Totty Howy Sapnoo Or Rotthy Howy Apno Ny Aaj Udass Kr Diya...!

FIAZ

Wrna Log Hum Sy Muskurany Ka Raaz Pocha Krty Thy...