اک دوسرے کو دیکھتے چہروں کی خیر ہو
بننے لگے جو ٹوٹ کے رشتوں کی خیر ہو
عجلت میں اپنا قیمتی سامان چھوڑ کر
گاڑی کے پیچھے بھاگنے والوں کی خیر ہو
اپنی جگہ پہ ٹھیک ہے جسموں کی تشنگی
اک ڈر سے کانپتے ہوئے ہونٹوں کی خیر ہو

ہم سے پہلے بھی محبت کا یہی انجام تھا
قیس بھی ناشاد تھا فرہاد بھی ناکام تھا

میں اس کے پاس کبھی دیر سے گیا ہی نہیں
اسے خبر ہی نہیں -- کیا ہے انتظار کا دکھ

Hum ny chup reh k palt di bazi

Woh samjhty thy k tmasha hoga

اس نے چوما تھا مرے چہرے کے دائیں جانب
تب سے لگتا ہے کہ بائیں سے یہ گال اچھا ہے

جو تم کو ہو پسند وہی بات کریں گئے
تم دن کو اگر رات کہو رات کہیں گئے

Suna Hai ap Sahib_e_Aqal Ho
Tou Zara Itna Hi Bata Do...

N+A=Life

Kaisay Parhtay Hain JanaZa UnKa
Wo log jo andar se Mar Jatay Hein...