زندہ رہنے کا تقاضا نہیں چھوڑا جاتا
ہم نے تجھ کو نہیں چھوڑا، نہیں چھوڑا جاتا

تم شجر کو ذرا دلاسہ دو
میں پرندےبلا کے لاتا ہوں

ترے لگائے ہوئے زخم کیوں نہیں بھرتے
مرے لگائے ہوئے پیڑ سوکھ جاتے ہیں

مسکرائے ہم ان سے ملتے وقت
رو نہ پڑتے اگر خوشی ہوتی

تمام عمر بھلا کون زندہ رہتا ہے
سوائےاُس کے، جسے عمر بھر محبّت ہو

کوئی تمھارا سفر پر گیا تو پوچھیں گے
کہ ریل گزرے تو ہم ہاتھ کیوں ہلاتے ہیں

نہ جانے کیا کمی مجھ میں
نہ جانے کیا خوبی اس میں!!

وہ مجھکو پا نہیں سکتا
میں اسکو کھو نہیں سکتی!!