چیزیں وقتی ہوتی ہیں....
ٹوٹ جاتی ہیں...
روئیے دائمی ہوتے ہیں...
صدیوں تک اپنا اثر چھوڑتے ہیں.....

ہم نے تاخیر سے سیکھے ہیں محبت کے اصول
ہم پہ لازم ہے ، ترا عشق دوبارہ کر لیں

ہزار مفت سہی، پر مزہ نہ لے اس کا
کہ بے بسی کا تماشا برا تماشا ہے

زندہ رہنے کا تقاضا نہیں چھوڑا جاتا
ہم نے تجھ کو نہیں چھوڑا، نہیں چھوڑا جاتا

تم شجر کو ذرا دلاسہ دو
میں پرندےبلا کے لاتا ہوں

ترے لگائے ہوئے زخم کیوں نہیں بھرتے
مرے لگائے ہوئے پیڑ سوکھ جاتے ہیں

مسکرائے ہم ان سے ملتے وقت
رو نہ پڑتے اگر خوشی ہوتی