لوٹا نہیں ہوں خود میں بڑی دیر ہو گئی!!...
تیرا خیال __ آج کہاں لے گیا __ مجھے!!.

تم کو ترتیب دے رہا ہوں میں ۔ ۔
میرے اندر بکھر گئے ہو تم !

عقل نے جو بھی مرتبے بخشے
عشق کی راہ میں گنواۓ ہیں!!

جب بھی ہم نے جس پر اکثر مان کیا ھے
اُس نے جتنا ممکن تھا نقصان کیا ھے

جسم کی دراڑوں سے روح نظر آنے لگی
بہت اندر تک توڑ گیا مجھے عشق ’ تیرا

کبھی تجھے فرصت ملے تو گن لینا
کتنے وعدے ادھار ھیں تجھ پر

سبھی سے مِلنا ہنس ہنس کر ، مسلسل بولتے رہنا
کبھی کیا تم نے دیکھی ہے ، کسی کی خامشی یوں بھی ؟